جامعہ کا تعلیمی نظام
نظامِ تعلیم
قرآنی تعلیم، طالبات اور بالغان کی تعلیم، تربیتی پروگرام اور طلبہ و سرپرستوں کے لیے ضروری ہدایات۔
قرآنی تعلیم اور شعبہ جات
ناظرہ قرآن کریم
جامعہ کے اس شعبے میں آنے والے بچوں کو پہلے قاعدہ اور پھر ناظرہ قرآن کریم پڑھایا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام بچوں کو اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروری احکامات، بالخصوص وضو، طہارت اور نماز کے متعلق مسائل سکھاتے ہیں۔
اس شعبے میں سکول جانے والے بچوں کے لیے یہ سہولت موجود ہے کہ صبح سکول جانے سے پہلے جامعہ میں دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔
تحفیظ قرآن کریم
جامعہ کا ایک اہم شعبہ تحفیظ القرآن الکریم ہے، جس میں ناظرہ کے بعد بچوں کو قرآن کریم حفظ کرایا جاتا ہے۔ اب تک جامعہ میں کافی تعداد میں بچے حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔
درسِ نظامی
جلد آرہا ہے
طالبات اور خواتین کی تعلیم
تعلیمِ بنات
جامعہ میں طلبہ کی طرح طالبات کے لیے بھی ناظرہ، ترجمۃ القرآن اور ضروری مسائل پڑھائے جاتے ہیں۔
جامعہ میں طالبات کے لیے ایک الگ مستقل عمارت قائم ہے جہاں وہ تقریباً چھ گھنٹے تعلیم حاصل کرتی ہیں اور پھر اپنے گھروں کو واپس چلی جاتی ہیں۔
دراساتِ دینیہ
دین کا بنیادی علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت کے ذمے فرض ہے۔
جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات میں اس اہم ضرورت کو سمجھتے ہوئے فہمِ دین کورس کا آغاز کیا گیا، جو عرصہ چار سال سے جاری ہے۔ اس میں ہر عمر اور بالخصوص بڑی عمر کی مستورات داخلہ لے سکتی ہیں۔
تعلیمِ بالغان
جامعہ میں بڑی عمر کے افراد، خصوصاً قرب و جوار میں رہنے والوں کے لیے قرآن کریم تجوید کے ساتھ پڑھانے اور بنیادی دینی معلومات و احکامات سکھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک نظام ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کی کلاسیں مغرب کے بعد ہوتی ہیں۔
تعلیم و تربیت
جامعہ میں سکول اور کالج کے طلبہ کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں میں چالیس روزہ دینی و اخلاقی تربیتی کورس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
جامعہ کے اساتذہ کی نگرانی اور رہنمائی میں ان کے لیے مخصوص نصاب مرتب کیا گیا ہے۔
خوش نویسی
غیر درسی اوقات، خصوصاً عصر تا مغرب، جامعہ میں طلبہ کو خوش خطی سکھانے کا بھی انتظام ہے، جس کے لیے باقاعدہ خوش نویسی کے استاد مقرر ہیں۔
دارالافتاء
جلد آرہا ہے
کتب خانہ (لائبریری)
جامعہ میں ایک کتب خانہ موجود ہے جس میں کافی نادر کتب موجود ہیں۔
اس کتب خانے میں طلبہ اور اساتذہ کی ہر وقت رسائی ممکن ہے، جس سے وہ علمی استفادہ حاصل کرتے ہیں۔
علمی کتب خانہ دیکھیےطلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لیے ضروری ہدایات و قواعد و ضوابط
ہر طالب علم کی اہلِ سنت والجماعت، مسلکِ حق سے مکمل واقفیت ضروری ہے۔
نماز باجماعت کی پابندی ہر طالب علم کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ترکِ جماعت کے لیے کوئی غیر شرعی عذر مسموع نہ ہوگا۔
ہر طالب علم کا فرض ہے کہ وہ تمام اساتذہ کا انتہائی احترام کرے اور ان سے قلبی وابستگی پیدا کرے، اگرچہ وہ براہِ راست اس کے استاد نہ ہوں۔
ہر طالب علم کے لیے اخلاق و اعمال، صورت و سیرت، وضع قطع اور لباس میں صلحائے امت کی مکمل اتباع ضروری ہے۔ سگریٹ پینا، انگریزی بال رکھنا، داڑھی منڈانا یا خلافِ شرع کاٹنا قطعاً ممنوع ہے۔ اپنے ساتھیوں یا ملازمینِ جامعہ سے لڑنے، جھگڑنے، بدکلامی کرنے، بد اخلاقی سے پیش آنے، ایک دوسرے کی چغلی، عیب جوئی، غیبت، مذاق اڑانے اور بیہودہ مذاق سے مکمل اجتناب کرنا ہر طالب علم پر فرض ہے۔
ہر طالب علم کو اپنی ضروریات اور شکایات منتظمین اور اساتذہ کے سامنے پیش کرنی چاہئیں۔
سبق سے غیر حاضری جرم ہے اور ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث ہے۔ شدید ضرورت میں خود چھٹی کی درخواست دینا ضروری ہے۔
جو طالب علم مطالعہ اور تکرار میں کوتاہی کرے گا اور تنبیہ کے بعد بھی باز نہ آئے گا، اسے سزا دی جائے گی۔
طلبہ کے لیے سیاست، جلسوں، جلوسوں وغیرہ میں شرکت کرنا ممنوع ہے۔ جو طالب علم کسی سیاسی جماعت یا غیر تعلیمی سرگرمی میں ملوث پایا گیا، اسے جامعہ سے خارج کر دیا جائے گا۔
چونکہ جامعہ طلبہ کی تمام ضروریات کی کفالت کرتا ہے، اس لیے طلبہ کا فرض ہے کہ وہ اپنا تمام تر وقت یک سوئی کے ساتھ تحصیلِ علم میں صرف کریں۔ جو طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی اور مشغلہ اختیار کریں گے، وہ جامعہ کی امداد اور دارالاقامہ میں سکونت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
ہر طالب علم صفائی و ستھرائی کا بھرپور اہتمام کرے اور شائستگی، تہذیب و اخلاق اور دینداری کا مظاہرہ کرے۔
جامعہ کے مہتمم، اساتذہ اور منتظمین کو ہر طالب علم سے مکمل بازپرس کا حق ہے۔ ان کے حکم کی تعمیل کرنا ہر طالب علم کا فرض ہے۔ انہیں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر مواخذے کا پورا حق حاصل ہے۔
ہر طالب علم پر لازم ہے کہ وہ جامعہ کے قواعد و ضوابط اور اساتذہ کی طرف سے دی جانے والی تمام ہدایات کی مکمل پابندی کرے۔